ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جسٹس لویا کیس:خاتون وکیل نے امت شاہ کوکٹہرے میں کھڑاکیا،سپریم کورٹ پراٹھائی انگلی

جسٹس لویا کیس:خاتون وکیل نے امت شاہ کوکٹہرے میں کھڑاکیا،سپریم کورٹ پراٹھائی انگلی

Tue, 23 Jan 2018 00:36:24    S.O. News Service

نئی دہلی،22؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سی بی آئی جج جسٹس لویاکی موت پر سپریم میں پیرکوسماعت شروع ہوئی۔سماعت چیف جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والی بنچ کررہی ہے، جس میں ان کے علاوہ جسٹس چندڑچوڑ اور جسٹس اے ایم کھانولکربھی شامل ہیں۔سماعت کے دوران فریقوں کے درمیان تیکھی بحث بھی ہوئی۔اس دوران چیف جسٹس دیپک مشراکو بھی غصہ آیا۔ چیف جسٹس دیپک مشرانے سماعت کے دوران ایک خاتون وکیل کوہی پھٹکارلگادی۔سماعت کے دوران ایک خاتون وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ میڈیا کاگلاگھونٹ رہی ہے۔جسٹس مشرا کو اس بیان پرغصہ آیا اور فوری طور پر خاتون وکیل سے اپنے الفاظ واپس لینے اورمعافی مانگنے کوکہا۔سماعت کرتے ہوئے جسٹس چندرچوڑ نے کہاکہ اب تک رپورٹ کو دیکھتے ہوئے یہ ایک فطری موت ہی لگ رہی ہے۔ہریش سالوے نے کہاکہ جب کاغذات کے مطابق یہ قدرتی موت ہے تو امت شاہ کا نام کیوں لیاجارہا ہے،ہمیں درخواست دہندگان سے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔دوشینت دوے نے کہاکہ اس معاملے پر حکومت کا رویہ صحیح نہیں ہے۔یہ ایک قدرتی موت ہو لیکن صورتحال کودیکھتے ہوئے شک کی گنجائش ہے،لہذاتفتیش ناگزیر ہے۔دشینت دوے نے مہاراسٹرحکومت کی طرف سے ہریش سالوے کے پیروی کرنے کی مخالفت کی۔دوے نے سماعت کے دوران کہا کہ سالوے نے پہلے اس معاملے میں امت شاہ کی پیروی کی تھی اور اب مہاراشٹر حکومت کی طرف سے پیروی کررہے ہیں،یہ غلط ہے۔

بتادیں کہ پیر کے روز سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ میڈیا میں آئی کچھ رپورٹ یہ کہتی ہے کہ جسٹس لویا کی موت شکست کی حالت میں تھی لیکن ابھی تک کی رپورٹ میں ماناگیاہے کہ یہ موت قدرتی تھی۔پیر کے روز سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ کسی بھی ہائی کورٹ میں اب جسٹس لویا سے متعلق کیس کی سماعت نہیں ہوگی ۔ممبئی ہائی کورٹ میں جودو درخواستیں زیر التواء ہیں،انہیں بھی سپریم کورٹ منتقل کیاجائے۔عدالت نے دونوں فریقوں کو ان دستاویزات کو سیل کرنے اور انہیں عدالت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مقدمہ کی اگلی سماعت 2فروری کو 2 بجے ہوگی۔


Share: